گیارہ ماہ رمضان کی سحر کے وقت جب عام طور پر قرآن کریم کی تلاوت اور اذان کی آواز سنائی دیتی ہے اچانک یہ فضا انتہائي تلخ اور ناگہانی خبر سے سوگ میں تبدیل ہوگئي
رہبر فرزانہ انقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای (رح) کی مظلومانہ شہادت نے کروڑوں شیدائيوں اور عقیدت مندوں کے دلوں کو توڑ کر رکھ دیا
اس عظیم سانحہ نے خاص طور پر حضرت ثامن الحجج کے حرم میں جہاں وہ ہمیشہ خود ایک خادم کی حیثيت سے حاضری دیتے تھے اور خدمت کو اپنے لئے اعزاز سمجھتے تھے انتہائي سخت غم و اندوہ کی لہر دوڑ گئی
آستان نیوز کے مطابق امام رضا علیہ السلام کے حرم مطہر کی معنوی فضا اتوار گيارہ ماہ رمضان کی صبح یکبارگي سوگ وعزا میں تبدیل ہوگئی
اس عظیم مصیبت کی سنگينی اتنی زیادہ تھی کہ حلقوم سے نکلنے والی اشہدان علیا ولی اللہ کی آواز قبل اس کے کہ کانوں تک پہنچے حسرت و حزن کے دریا میں ڈوب جاتی تھی
وہ نمازی اور زائرین جو اذان و اقامہ کے وقت کا انتظارکیا کرتے تھے وہ اپنے محبوب قائد اور رہبر سے جدائي اور غم فرقت سے نڈھال نظر آرہے تھے
حرم مطہر رضوی کے صحن اور سرا میں غم واندوہ کا ماحول
اس عظیم سانحے کی خبر پھیلتے ہی امام رضا علیہ السلام کا حرم مطہر اور اس کے سبھی صحن دیکھتے دیکھتے غم و اندوہ اور ماتم میں ڈوب گئے
حرم مطہر کے خدام جنھوں نے خود کو اس آستانہ مقدس کی خدمت کے لئے وقف کررکھا تھا غم سے نڈھال چہروں اور اشک بار آنکھوں سے حرم کی فضا کو سوگ و عزا میں تبدیل ہوتا دیکھ رہے تھے
حرم کے گلدستوں پر سنگين خاموشی چھائي ہوئي تھی گویا زمین و زمان ((قائدامت ))کے سوگ و ماتم میں عزا دار اور سوگوارہیں
حرم کے صحن انقلاب اسلامی ، صحن پیامبراعظم اور اسی طرح حرم کے دیگر صحن و سرا جن میں سے ہر ایک، ایرانی عوام کی مجاہدتوں اور قربانیوں کی روایت اور تاریخ اپنے سینے میں لئے ہوئے ہے آج ایک اور داستان بیان کررہے تھے جی ہاں فراق اور جدائي کی داستان ۔
زائرین جن میں خواتین و حضرات سبھی شامل تھے ضریح مطہر پر اپنے سر اور پیشانی رکھ کر اپنی حاجت اور پریشانی کے لئے نہیں بلکہ خادم الرضا علیہ السلام آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای( رح ) کے فراق میں گریہ و ماتم کررہے تھے
بچوں، نوجوانوں اور جوانوں کی صدائے گریہ و ماتم ایک طرف اورسن رسیدہ لوگوں کی گھٹ گھٹ کر رونے کی آواز اور سسکیاں دوسری جانب دل کی گہرائيوں سے فضا کو سوگ میں تبدیل کررہی تھیں
ماتمی انجمنیں حرم مطہر کے اطراف میں سراسیمگی کے عالم میں سر و سینہ پیٹتی ہوئي اشک بار آنکھوں کے ساتھ آسمان کی جانب نگاہ اٹھائے آہ و بکا کررہی تھیں ۔ حرم کے خدام جو ہمیشہ کی طرح حرم میں صفائی اور نظافت اور زائرین کی رہنمائي میں مشغول رہتے ہيں اس وقت ان کے لباس پر آنسو کے قطرے گر کر ان کے گہرے صدمے اور غم و اندوہ کی گواہی دے رہے تھے
یہ مقام صرف ایک مقدس مقام نہيں تھا یہ وہ گھر تھا کہ جس کے مالک نے اپنے وفادار خادم کو کھو دیا تھا
حرم مطہر رضوی سیاہ پوش
رہبرانقلاب اسلامی کی شہادت کے سوگ و عزا کے طور پر حرم مطہر کے در و دیوار اور سبھی صحن کو تیزی کے ساتھ سیاہ پوش کردیا گیا
اور شہادت کی خبر پھیلتے ہی حرم مطہر کے طلائي گنبد پر نصب سبز پرچم کو تبدیل کرکے سیاہ پرچم نصب کردیا گيا
حرم مطہر کے گنبد کے پرچم کی تبدیلی پورے شہر مشہد اور وہاں سے ہر گذرنے والے کے لئے غم کا پیغام پہنچا رہی تھی
امام رضا علیہ السلام کے روضے کی ضریح مقدس جو ہمیشہ مظہر نور و شکوہ ہوتی ہے سیاہ پوش ہوگئي تاکہ وہ زائرین اور خدام کے عزادار اور ماتم دار ہونے کی گواہی دے
طلائي اور فیروزی غلاف جو ہمیشہ الہی جلال و جبروت کی علامت ہوتا ہے اب سیاہ پوش ہوگيا ۔ غلاف کی یہ تبدیلی ایک علامتی اقدام نہیں تھا بلکہ زبان حال حرم تھی اور جو زائرین پہلی بار اس منظر کو دیکھتے ان کے قدم ضریح کے سامنے رک جاتے اور غم و حیرت کے دریا میں ڈوب جاتے ۔
امام رضا علیہ السلام کے حرم کے سبھی صحنوں کو سیاہ پارچوں سے سیاہ پوش کردیا گيا جو عظیم سانحے کی حکایت کررہے تھے
تمام زائرین کے چہروں پر جو ایران کے گوشہ و کنار سے اس مقدس آستانے میں حاضری دینے کے لئے پہنچے تھے حزن و اندوہ کی لہر دوڑ رہی تھی
سحر کے وقت راز ونیاز ، اللہ کے حضور گریہ اور نماز جماعت سبھی رہبرانقلاب اسلامی کی شہادت پر مرثیہ خوانی اور نوحہ و ماتم میں تبدیل ہوگئي تھیں جو اس بات کو ثابت کررہی تھیں ایرانی قوم خاندان عصمت و طہارت سے کس قدر عقیدت و محبت رکھتی ہے
جی ہاں ملت ایران کا خادم شہید ہوگيا لیکن کے اس جد مظلوم سید الشہدا حضرت امام حسین علیہ السلام کا راستہ اور اسلامی انقلاب کی امنگيں بدستور پائيدار اوراستوار رہیں گي